کیٹگریز مینو

علمی و ادبی مضامین

اختلاف کی بنیاد پر پوری جماعت کو مجرم قرار دینا انصاف نہیں

اختلاف کی بنیاد پر پوری جماعت کو مجرم قرار دینا انصاف نہیں

اس وقت ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم چند لوگوں کے اعمال کا بوجھ پوری جماعت پر ڈال دیتے ہیں ۔۔۔۔ اگر تو کسی مخصوص جماعت یا تحریک سے وابستہ کوئی شخص غلط رویہ اختیار کرے اور شدت پسندی کا مظاہرہ کرے، کسی پر ظلم کرے یا نفرت بھری زبان استعمال کرے تو برجستہ یہ فیصلہ سنا دیا جاتا ہے کہ ما شاء اللہ سے پوری جماعت ایسی ہی ہے۔۔۔۔ حالانکہ یہ طرز فکر نہ تو انصاف ہے، نہ عقل کے مطابق اور نہ ہی اسلامی اخلاقیات سے ہم آہنگ۔۔۔۔ دنیا میں کوئی جماعت، کوئی تحریک، کوئی ادارہ اور کوئی مکتب فکر ایسا نہیں کہ جس کے تمام افراد ایک ہی معیار کے علم، کردار اور مزاج کے حامل ہوں۔۔۔۔ ہر جگہ مختلف سوچ رکھنے والے بھی موجود ہوتے ہیں۔۔۔ کہیں اعتدال پسند لوگ ہوتے ہیں تو کہیں جذباتی۔۔ کسی بھی جگہ پر سنجیدہ اور غیر ذمہ دار لوگ یکساں موجود ہوتے ہیں سو چند افراد کی غلطیوں کو بنیاد بناتے ہوئے لاکھوں لوگوں کے بارے میں فیصلہ صادر کر دینا انصاف کے بنیادی اصولوں کے بر خلاف ہے ۔۔۔ اصل میں شدت پسندی کو سمجھنے کے لیے صرف اس کے نتائج پر نظر رکھنا کافی نہیں بلکہ اس کے اسباب پر بھی توجہ کرنا ضروری ہے۔۔۔ بعض اوقات کچھ لوگوں کی ذہنی تربیت اس انداز سے کی جاتی ہے کہ ان کے اندر سوال کرنے، دلیل سننے اور مختلف نقطۂ نظر کو سمجھنے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی اور نتیجتاً رفتہ رفتہ ایسے لوگوں کی تنقیدی سوچ بالکل کمزور پڑ جاتی ہے اور وہ ہر کسی کی ہر بات کو تحقیق کے بجائے صرف خشک جذبات یا اندھی تقلید کی بنیاد پر قبول کرنے لگتے ہیں ۔۔۔ پھر وہ اپنے ذہن سے سوچنے کے بجائے دوسروں کے بنائے ہوئے سانچوں میں سوچنے لگتے ہیں۔۔۔ آپ میں سے اکثر حضرات نے دیکھا ہو گا کہ چند برس پہلے ایک مذہبی مظاہرے کے دوران کسی مدرسے کے فاضل (جو کہ بند ذہنیت کا حامل تھا) سے سوال کیا گیا کہ کیا ہمیں سائنس میں ترقی کرنی چاہیے؟؟؟ تو ان حضرت نے بہت تڑپ کر جواب دیا کہ نہیں، ہمیں سائنس میں ترقی ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔۔۔۔ دیکھا جائے تو ایسے بیانات دوسروں کو موقع ضرور دیتے ہیں کہ وہ پورے مذہبی طبقے یا پوری تحریک کو عقل اور علم کا مخالف قرار دیں ۔۔۔ پھر ہوتا یہ ہے کہ اس جماعت سے وابستہ بے شمار ایسے لوگ بھی تنقید کی زد میں آ جاتے ہیں جو خود علم، تحقیق اور مثبت فکر کے حامی ہوتے ہیں۔۔۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی شخص شدت پسندی تک پہنچ جاتا ہے تو صرف اس کی مذمت کر دینا کافی نہیں۔۔۔ یہ سوال کرنا بھی ضروری ہے کہ آخر وہ اس مقام تک پہنچا کیسے!!! اس کی فکری تشکیل کن حالات میں ہوئی؟ اسے کیا پڑھایا گیا؟ اسے کس قسم کا ماحول ملا؟ کیا اسے اختلافِ رائے برداشت کرنا سکھایا گیا تھا یا صرف ایک ہی زاویۂ نظر کو حرفِ آخر سمجھنے کی عادت ڈال دی گئی تھی؟ جب تک ان سوالات پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا جائے گا، شدت پسندی کی جڑیں ہمیشہ باقی رہیں گی۔۔۔ فرض کریں اگر کسی شہر میں ایک طبیب غلط علاج کر دے تو کیا ہم یہ کہیں گے کہ اس شہر کے تمام ڈاکٹر نااہل ہیں؟؟؟ اگر کسی استاد سے کوئی غلطی ہو جائے تو کیا اس کی وجہ سے پورے تعلیمی نظام کو مجرم قرار دیا جا سکتا ہے؟؟؟ اگر کسی پولیس اہلکار کی زیادتی سامنے آ جائے تو کیا پوری پولیس کو ظالم کہنا درست ہوگا؟؟؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔۔۔ پھر یہی اصول مذہبی جماعتوں اور تحریکوں کے معاملے میں کیوں بھلا دیا جاتا ہے۔۔۔؟ فکری اختلاف ہر معاشرے میں ہوتا ہے، اور ہونا بھی چاہیے۔۔۔ اختلاف رائے علمی ترقی کی علامت ہے لیکن اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ ہم مخالف کو فوراً ہی گمراہ، گستاخ یا کافر قرار دینا شروع کر دیں، یا پوری جماعت کو نفرت کا نشانہ بنا دیں۔۔۔ یہ رویہ اختلاف کو ختم نہیں کرتا بلکہ نفرت اور تقسیم کو مزید بڑھا دیتا ہے۔۔۔ اچھا، اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ جب کسی جماعت یا اس کے افراد کے ساتھ کوئی ناانصافی، قانونی زیادتی یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو بعض لوگ صرف فکری اختلاف کی بنیاد پر اس سب پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور یہ بات بھلا بیٹھتے ہیں کہ ظلم، ظلم ہے۔۔۔ چاہے وہ اپنے اوپر ہو یا اپنے مخالف پر۔۔۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ہم حق کا ساتھ دیں، نہ کہ اپنی پسند اور ناپسند کا۔۔۔۔ میاں صاحب فرماتے ہیں ۔۔۔ ﺩﺷﻤﻦ ﻣﺮﮮ ﺗﮯ ﺧﻮﺷﯽ ﻧﮧ ﮐﺮﺋﯿﮯ ﺳﺠﻨﺎﮞ ﻭﯼ ﻣﺮ ﺟﺎﻧﺎ ﮈﯾﮕﺮ ﺗﮯ ﺩﻥ ہوﯾﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻭﮌﮎ ﻧﻮﮞ ﮈﺏ ﺟﺎﻧﺎ۔۔۔ گزارش یہی ہے کہ ہمیں سیکھنے کی ضرورت ہے کہ چند اشخاص کے اعمال کا حساب پوری جماعتوں سے ہر گز نہ لیا جائے ۔۔۔ تنقید ضرور کیجیے لیکن دلیل کے ساتھ۔۔۔ اختلاف ضرور رکھیے مگر انصاف کے دائرے میں۔۔۔ اور اگر تو کسی شخص نے جرم کیا ہے تو اس کا ذمہ دار وہ خود ہے، نہ کہ ہر وہ فرد جو صرف اس کے مسلک، جماعت یا تنظیم سے تعلق رکھتا ہے۔۔۔ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں اختلاف انصاف کو ختم تو نہیں کرتا لیکن انصاف اختلاف کے باوجود بھی قائم رہتا ہے۔۔۔۔ یہی رویہ معاشرے کو نفرت سے نکال کر مکالمے، علم اور باہمی احترام کی طرف لے جا سکتا ہے۔۔۔۔
ابن تیمیہ کا تصور بدعت

ابن تیمیہ کا تصور بدعت

بدعت کے مسئلے میں امام ابن تیمیہ علیہ الرحمہ کے موقف کو سمجھنے کے لیے اولاً ہمیں ایک بنیادی فرق پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ لغوی بدعت اور شرعی بدعت میں کیا فرق ہے۔۔۔ امام ابن تیمیہ کے نزدیک لغوی اعتبار سے بدعت ہر اس نئی چیز کو کہا جا سکتا ہے جس کی پہلے کوئی بھی مثال نہ ہو لیکن اصطلاحِ شرعی میں ہر نئی چیز بدعت ہر گز نہیں۔۔۔ شرعی بدعت وہ ہے جسے دین کا حصہ اور عبادت سمجھ کر اختیار کیا جائے، حالانکہ اس کے لیے شریعت میں کوئی معتبر اصل سرے سے موجود ہی نہ ہو۔۔۔ یہی ان کا موقف ہے کہ جو عمل کتاب و سنت سے ثابت ہو اگرچہ بعد میں انجام دیا گیا ہو، اسے لغت کے اعتبار سے بدعت کہا جاسکتا ہے، لیکن وہ شرعی بدعت ہرگز نہیں۔۔۔ اسی اصول کی روشنی میں وہ حضرت عمر کے قول ”نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ“ کی وضاحت کرتے ہیں کہ تراویح کو حضرت عمر نے بدعت کہا مگر یہ لغوی معنی میں تھا کیونکہ نبی اکرم علیہ السلام خود رمضان میں صحابہ کے ساتھ قیام کرچکے تھے۔۔۔ لہٰذا تراویح کی اصل شریعت میں پہلے سے موجود تھی، بعد میں حضرت عمرؓ نے لوگوں کو ایک امام کے پیچھے جمع کیا۔۔۔ (یہ ایک طویل موضوع ہے سو تراویح والی بات پر علیحدہ سے ایک پوسٹ جلد حاضر ہو گی) یعنی کہ محض نیا ہونا کسی عمل کو شرعی بدعت نہیں بناتا۔۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس عمل کو دین میں شامل کرنے کی شرعی دلیل موجود ہے یا نہیں۔۔۔۔ اسی لیے وہ حدیث ”كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ“ کو اپنے عموم پر محمول کرتے ہیں۔۔۔ ان کے نزدیک اگر کسی نئے عمل کے بارے میں شرعی دلیل موجود ہو تو اسے بدعتِ شرعی کہنا درست ہی نہیں۔۔۔ البتہ اگر کوئی ایسا دینی طریقہ ایجاد کیا جائے جس کی شریعت میں کوئی اصل نہ ہو، تو وہ بدعت کے دائرے میں داخل ہوگا۔۔۔۔ یہ اصول، نئی چیز جائز ہے یا ناجائز؟ کی بحث سے نکال کر ایک اصولی بات سامنے رکھتا ہے کہ کیا دین میں کسی عمل کی مشروعیت کا معیار اس کا نیا یا پرانا ہونا ہے یا ا اس کے لیے شرعی ماخذ اور دلیل ہونا ضروری ہے۔۔۔۔ سو ہر چیز بدعت نہیں بلکہ بدعت وہ نیا دینی طریقہ ہے جس کی شریعت میں کوئی اصل نہ ہو۔۔۔۔
App Icon
ایپ انسٹال کریں
آسان اور تیز ترین مطالعے کے لیے