کیٹگریز مینو

شاعری و دیوان

حمد و نعت 03 Sep 2026

جو اہلِ دل ہیں، کیفیت سے کب باہر نکلتے ہیں

جو اہلِ دل ہیں، کیفیت سے کب باہر نکلتے ہیں کہ ہر منظر سے طیّبہ کے، کئی منظر نکلتے ہیں شبِ معراج اُنکی اِک جھلک جس راہ پر دیکھی اُسی پر آج تک ہر شب ‌،، مَہ و اختر نکلتے ہیں طوافِ قصر و ایواں اور هم ، توبہ ، معاذ اللہ کہ ہم جیسوں کے اَرماں آپکے دَر پر نکلتے ہیں رھے آباد مَے خانہ تیرا ، اے ساقیِؐ بطحیٰ !! کہ جِس سے انبیاء و اولیاء پی کر نکلتے ہیں عجب هے اُن کےدیوانوں کا عالم راہِ طیبہ میں جنونِ شوق کی اوڑھے هُوۓ ، چادر نکلتے ہیں جو زائر ہیں، وہ زندہ لَوٹتے ہیں حاضری دے کر جوعاشق ہیں، وہ اُنکےشہر سے مَر کر نکلتے ہیں بہا لے جاۓ جن کو ، موجِ عشقِ ساقئِؐ کوثر قیامت میں سہی ، لیکن لبِ کوثر نکلتے ہیں میسّر آ گیا تھا ، لمسِ نعلینِ نبیؐ جن کو اب ان ذرّات سے خورشید کے تیور نکلتے ہیں پرستارِ خرد !! نعتِ نبیؐ آساں نہیں اِتنی کہ یہ اشعار دل کی راہ سے هو کر نکلتے ہیں نصیرؔ اپنی اُمیدیں بھی ہیں اُس کُوچےسے وابستہ کہ جس کُوچے کے بےزَر ، وقت کے بُوزَر نکلتے ہیں
رباعی / قطعہ 03 Sep 2026

کثرتِ شوق سےاوسان مدینےمیں ہیں گم

کثرتِ شوق سےاوسان مدینےمیں ہیں گم نہیں کُھلتا کہ مجھے چاھیے کیا کیا کرنا یہ تمنّائے محبّت هے ، کہ اے داورِ حَشر فیصلہ میرا ، سپردِ شہہِؐ بطحا ﷺ کرنا
متفرق اشعار 03 Sep 2026

پہلے دیکھو تو سہی اپنے کرم کی وسعت

پہلے دیکھو تو سہی اپنے کرم کی وسعت پھر بڑے شوق سے تُم میرے خدا ہو جانا
اردو غزل 03 Sep 2026

آپ اِس طرح تو ہوش اُڑایا نہ کیجیئے

آپ اِس طرح تو ہوش اُڑایا نہ کیجیئے یُوں بن سنور کے سامنے آیا نہ کیجیئے یا سَر پہ آدمی کو بٹھایا نہ کیجیئے یا پھر نظر سے اُس کو گِرایا نہ کیجیئے یُوں مَدھ بھری نگاہ اُٹھایا نہ کیجیئے پینا حرام ھے ، تو پِلایا نہ کیجیئے کہیئے تو آپ محو ہیں کس کےخیال میں ہم سے تو دل کی بات چُھپایا نہ کیجیئے تیغِ ستم سے کام جو لینا تھا، لے چکے اہلِ وفا کا یوں تو صفایا نہ کیجیئے میں آپ کا ، گھر آپ کا ، آئیں ہزار بار لیکن کسی کی بات میں‌آیا نہ کیجیئے اُٹھ جائیں گے ہم آپ ہی محفل سے آپکی دُشمن کے رُوبرو تو بٹھایا نہ کیجیئے دل دُور ھوں تو ہاتھ مِلانے سے فائدہ؟ رسماً کسی سے ہاتھ ملایا نہ کیجیئے محروم ہوں لطافتِ فطرت سےجو نصیر اُن بے حِسوں کو شعر سُنایا نہ کیجیئے
متفرق اشعار 03 Sep 2026

گلاب سہمے ہوئے اور خار و خس بے باک

گلاب سہمے ہوئے اور خار و خس بے باک کہیں زوالِ گلستاں کی ابتدا تو نہیں
اردو غزل 03 Sep 2026

نہ دوستی سے رہے اور نہ دشمنی سے رہے

نہ دوستی سے رہے اور نہ دشمنی سے رہے ہمیں تمام گلے اپنی آگہی سے رہے وہ پاس آئے تو موضوع گفتگو نہ ملے وہ لوٹ جائے تو ہر گفتگو اسی سے رہے ہم اپنی راہ چلے لوگ اپنی راہ چلے یہی سبب ہے کہ ہم سرگراں سبھی سے رہے وہ گردشیں ہیں کہ چھٹ جائیں خود ہی بات سے ہات یہ زندگی ہو تو کیا ربط جاں کسی سے رہے کبھی ملا وہ سر رہ گزر تو ملتے ہی نظر چرانے لگا ہم بھی اجنبی سے رہے گداز قلب کہے کوئی یا کہ ہرجائی خلوص و درد کے رشتے یہاں سبھی سے رہے
اردو غزل 03 Sep 2026

لہرا کے، جُھوم جُھوم کے لا، مُسکرا کے لا

لہرا کے، جُھوم جُھوم کے لا، مُسکرا کے لا پُھولوں کےرَس میں چاند کی کِرنیں مِلا کے لا کہتے ہیں عُمرِ رفتہ ، کبھی لوٹتی نہیں جا مَےکدے سے میری جوانی اُٹھا کے لا ساغر شکن هے شیخِ بلا نوش کی نظر شیشے کو زیرِ دامنِ رنگیں چُھپا کے لا کیوں جا رہی هےرُوٹھ کے رنگینیِ بہار جا ایک مرتبہ اسے پھر ، ورغلا کے لا دیکھی نہیں ہے تو نےکبھی زندگی کی لہر اچھا تو جا عدم کی صراحی اٹھا کے لا
اردو غزل 03 Sep 2026

دل میں چبھے نہ جنکو کبھی خار زیست کے

دل میں چُبھےنہ جِنکو کبھی خار زیست کے کیا اُن پہ آشکار هوں ، اسرار زیست کے ؟ کیوں ہم پہ ہی تمام ہُوئیں غم کی نعمتیں؟ کیا اِک ہمی هوئے تھے گناہ گار زیست کے ؟ دیکھی هے هم نے رونقِ نیرنگیِ حیات منظر بدل چکے ہیں کئی بار زِیست کے چکھی هے هم نے موت کی لذت ہزار بار گزرے ہیں ہم پہ حادثے دو چار زیست کے کارِ حیات ، ریشمی دھاگوں کا کھیل تھا اُلجھےتو پھر سُلجھ نہ سکے تار زیست کے ایک ایک سانس کے لئے ، کاسہ لیے پھریں ایسے بھی ہم نہیں ہیں طلبگار زیست کے اب آس هے ، نہ کوئی تمنّا ، نہ جستجو باقی نہیں ہیں زِیست میں آثار زِیست کے کیا زندگی کا رنگ هو ، جانے ہمارے بعد؟ هم آخری اَمیں ہیں ، طرحدار زیست کے
اردو غزل 03 Sep 2026

چراغ مانگتے رہنے کا کچھ سبب بھی نہیں

چراغ مانگتے رہنے کا، کُچھ سبب بھی نہیں اندھیرا کیسےبتائیں، کہ اب تو شب بھی نہیں میں اپنے زعم میں اِک بازیافت پر خوش ہوں یہ واقعہ هےکہ مجھ کو مِلا وہ اب بھی نہیں جو میرے شعر میں مجھ سے زیادہ بولتا هے میں اسکی بزم میں اک حرفِ زیرِ لب بھی نہیں اور اب تو زندگی کرنے کے سو طریقے ہیں ہم اس کے ہجر میں تنہا رہے تھے جب بھی نہیں کمال شخص تھا ،،، جس نے مجھے تباہ کیا خلاف اس کے یہ دِل هو سکا ہے اب بھی نہیں یہ دستکیں ، یہ میری زندگی کی آدھی رات ھوا کا شور سمجھ لوں تو کچھ عجب بھی نہیں یہ دکھ نہیں کہ اندھیروں سے صلح کی ہم نے ملال یہ ہے ،،، کہ اب صبح کی طلب بھی نہیں حسابِ دَر بدری تجھ سے مانگ سکتا ہے غریبِ شہر ،،، مگر اتنا بے ادب بھی نہیں ہمیں بہت ہے ، یہ ساداتِ عشق کی نسبت کہ یہ قبیلہ کوئی ایسا کم نسب بھی نہیں
اردو غزل 03 Sep 2026

مل چکا تجھ سے صلہ ہم کو وفاداری کا۔۔

مِل چکا تجھ سےصلہ ہم کو وفاداری کا تجھ کو آیا نہ سلیقہ ، کبھی دلداری کا طفلِ مکتب هےتیرے سامنے خود چرخِ کہن کس سے سیکھا هے یہ انداز دل آزاری کا؟ عقل والا کوئی بچتا نہیں پھندے سے تیرے گو بہت عام هے شہرہ ، تیری عیّاری کا ہم کوخود شوقِ شہادت ہے، گواہی کیسی؟ فیصلہ کر بھی چُکو ، مجرمِ اقراری کا میری شہرت بھی اگر ہوگی تو کیا؟ قتل بھی کر نام هو جائےگا تیری بھی سِتم گاری کا کیاقباحت ھےمری قتل سے شہرت ہی سہی نام هو گا نہ بھلا تیرے سِتم گاری کا قاتل اب دیر ھےکیا؟ جام شہادت دے چک هو گیا وقت کبھی کا میری افطاری کا تو ہو آمادہ جو اے دل تو ہے پھر دار بھی ہیچ آزما دیکھ ، یہ سب کھیل ہے تیاری کا سب ہیں فانی غمِ دنیا نہ رہا، ہم نہ رهے رہ گیا نام غمِ عشق کی غم خواری کا تُو تو ہم سب کو یہیں چھوڑ چلا اے جوہر شور سُنتے تھے بہت تیری وفاداری کا
نظم 03 Sep 2026

متاعِ بے بہا ہے درد و سوزِ آرزو مندی

متاعِ بے بہا ہے ، درد و سوزِ آرزو مندی مقامِ بندگی دے کر نہ لُوں شانِ خداوندی تیرے آزاد بندوں کی ، نہ یہ دُنیا، نہ وہ دُنیا یہاں مَرنےکی پابندی وہاں جینے کی پابندی حجاب اکسیر ہے ، آوارہِ کوئے محبت کو میری آتش کو بھڑکاتی ہے تیری دیر پیوندی گزر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ و بیاباں میں کہ شاہیں کے لئے ذِلّت ہے، کارِ آشیاں بندی یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی؟ سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی؟ زیارت گاہِ عزم و ہمت ہے ، لحد میری کہ خاکِ راہ کو میں نے بتایا ، رازِ الوندی میری مشاطگی کی کیاضرورت حُسنِ معنی کو کہ فطرت خُودبخود کرتی ھے لالےکی حِنا بندی
App Icon
ایپ انسٹال کریں
آسان اور تیز ترین مطالعے کے لیے