کیٹگریز مینو

شاعری و دیوان

تمام شاعری
اردو غزل 03 Sep 2026

مل چکا تجھ سے صلہ ہم کو وفاداری کا۔۔

مِل چکا تجھ سےصلہ ہم کو وفاداری کا تجھ کو آیا نہ سلیقہ ، کبھی دلداری کا طفلِ مکتب هےتیرے سامنے خود چرخِ کہن کس سے سیکھا هے یہ انداز دل آزاری کا؟ عقل والا کوئی بچتا نہیں پھندے سے تیرے گو بہت عام هے شہرہ ، تیری عیّاری کا ہم کوخود شوقِ شہادت ہے، گواہی کیسی؟ فیصلہ کر بھی چُکو ، مجرمِ اقراری کا میری شہرت بھی اگر ہوگی تو کیا؟ قتل بھی کر نام هو جائےگا تیری بھی سِتم گاری کا کیاقباحت ھےمری قتل سے شہرت ہی سہی نام هو گا نہ بھلا تیرے سِتم گاری کا قاتل اب دیر ھےکیا؟ جام شہادت دے چک هو گیا وقت کبھی کا میری افطاری کا تو ہو آمادہ جو اے دل تو ہے پھر دار بھی ہیچ آزما دیکھ ، یہ سب کھیل ہے تیاری کا سب ہیں فانی غمِ دنیا نہ رہا، ہم نہ رهے رہ گیا نام غمِ عشق کی غم خواری کا تُو تو ہم سب کو یہیں چھوڑ چلا اے جوہر شور سُنتے تھے بہت تیری وفاداری کا
App Icon
ایپ انسٹال کریں
آسان اور تیز ترین مطالعے کے لیے