Categories Menu

Scientific & Literary Articles

ابن تیمیہ کا تصور بدعت

ابن تیمیہ کا تصور بدعت

بدعت کے مسئلے میں امام ابن تیمیہ علیہ الرحمہ کے موقف کو سمجھنے کے لیے اولاً ہمیں ایک بنیادی فرق پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ لغوی بدعت اور شرعی بدعت میں کیا فرق ہے۔۔۔ امام ابن تیمیہ کے نزدیک لغوی اعتبار سے بدعت ہر اس نئی چیز کو کہا جا سکتا ہے جس کی پہلے کوئی بھی مثال نہ ہو لیکن اصطلاحِ شرعی میں ہر نئی چیز بدعت ہر گز نہیں۔۔۔ شرعی بدعت وہ ہے جسے دین کا حصہ اور عبادت سمجھ کر اختیار کیا جائے، حالانکہ اس کے لیے شریعت میں کوئی معتبر اصل سرے سے موجود ہی نہ ہو۔۔۔ یہی ان کا موقف ہے کہ جو عمل کتاب و سنت سے ثابت ہو اگرچہ بعد میں انجام دیا گیا ہو، اسے لغت کے اعتبار سے بدعت کہا جاسکتا ہے، لیکن وہ شرعی بدعت ہرگز نہیں۔۔۔ اسی اصول کی روشنی میں وہ حضرت عمر کے قول ”نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ“ کی وضاحت کرتے ہیں کہ تراویح کو حضرت عمر نے بدعت کہا مگر یہ لغوی معنی میں تھا کیونکہ نبی اکرم علیہ السلام خود رمضان میں صحابہ کے ساتھ قیام کرچکے تھے۔۔۔ لہٰذا تراویح کی اصل شریعت میں پہلے سے موجود تھی، بعد میں حضرت عمرؓ نے لوگوں کو ایک امام کے پیچھے جمع کیا۔۔۔ (یہ ایک طویل موضوع ہے سو تراویح والی بات پر علیحدہ سے ایک پوسٹ جلد حاضر ہو گی) یعنی کہ محض نیا ہونا کسی عمل کو شرعی بدعت نہیں بناتا۔۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس عمل کو دین میں شامل کرنے کی شرعی دلیل موجود ہے یا نہیں۔۔۔۔ اسی لیے وہ حدیث ”كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ“ کو اپنے عموم پر محمول کرتے ہیں۔۔۔ ان کے نزدیک اگر کسی نئے عمل کے بارے میں شرعی دلیل موجود ہو تو اسے بدعتِ شرعی کہنا درست ہی نہیں۔۔۔ البتہ اگر کوئی ایسا دینی طریقہ ایجاد کیا جائے جس کی شریعت میں کوئی اصل نہ ہو، تو وہ بدعت کے دائرے میں داخل ہوگا۔۔۔۔ یہ اصول، نئی چیز جائز ہے یا ناجائز؟ کی بحث سے نکال کر ایک اصولی بات سامنے رکھتا ہے کہ کیا دین میں کسی عمل کی مشروعیت کا معیار اس کا نیا یا پرانا ہونا ہے یا ا اس کے لیے شرعی ماخذ اور دلیل ہونا ضروری ہے۔۔۔۔ سو ہر چیز بدعت نہیں بلکہ بدعت وہ نیا دینی طریقہ ہے جس کی شریعت میں کوئی اصل نہ ہو۔۔۔۔
App Icon
Install App
For a faster and easier reading experience