Categories Menu
پ

پروین شاکر

0کتب
1شاعری
0مضامین
تمام تخلیقات 1 کتب 0 شاعری 1 مضامین 0

پروین شاکر کی شاعری

1 تخلیقات
اردو غزل

چراغ مانگتے رہنے کا کچھ سبب بھی نہیں

چراغ مانگتے رہنے کا، کُچھ سبب بھی نہیں اندھیرا کیسےبتائیں، کہ اب تو شب بھی نہیں میں اپنے زعم میں اِک بازیافت پر خوش ہوں یہ واقعہ هےکہ مجھ کو مِلا وہ اب بھی نہیں جو میرے شعر میں مجھ سے زیادہ بولتا هے میں اسکی بزم میں اک حرفِ زیرِ لب بھی نہیں اور اب تو زندگی کرنے کے سو طریقے ہیں ہم اس کے ہجر میں تنہا رہے تھے جب بھی نہیں کمال شخص تھا ،،، جس نے مجھے تباہ کیا خلاف اس کے یہ دِل هو سکا ہے اب بھی نہیں یہ دستکیں ، یہ میری زندگی کی آدھی رات ھوا کا شور سمجھ لوں تو کچھ عجب بھی نہیں یہ دکھ نہیں کہ اندھیروں سے صلح کی ہم نے ملال یہ ہے ،،، کہ اب صبح کی طلب بھی نہیں حسابِ دَر بدری تجھ سے مانگ سکتا ہے غریبِ شہر ،،، مگر اتنا بے ادب بھی نہیں ہمیں بہت ہے ، یہ ساداتِ عشق کی نسبت کہ یہ قبیلہ کوئی ایسا کم نسب بھی نہیں
مکمل کلام دیکھیں
App Icon
Install App
For a faster and easier reading experience