کیٹگریز مینو
م

مشتاق عاجز

0کتب
1شاعری
0مضامین
تمام تخلیقات 1 کتب 0 شاعری 1 مضامین 0

مشتاق عاجز کی شاعری

1 تخلیقات
اردو غزل

دل میں چبھے نہ جنکو کبھی خار زیست کے

دل میں چُبھےنہ جِنکو کبھی خار زیست کے کیا اُن پہ آشکار هوں ، اسرار زیست کے ؟ کیوں ہم پہ ہی تمام ہُوئیں غم کی نعمتیں؟ کیا اِک ہمی هوئے تھے گناہ گار زیست کے ؟ دیکھی هے هم نے رونقِ نیرنگیِ حیات منظر بدل چکے ہیں کئی بار زِیست کے چکھی هے هم نے موت کی لذت ہزار بار گزرے ہیں ہم پہ حادثے دو چار زیست کے کارِ حیات ، ریشمی دھاگوں کا کھیل تھا اُلجھےتو پھر سُلجھ نہ سکے تار زیست کے ایک ایک سانس کے لئے ، کاسہ لیے پھریں ایسے بھی ہم نہیں ہیں طلبگار زیست کے اب آس هے ، نہ کوئی تمنّا ، نہ جستجو باقی نہیں ہیں زِیست میں آثار زِیست کے کیا زندگی کا رنگ هو ، جانے ہمارے بعد؟ هم آخری اَمیں ہیں ، طرحدار زیست کے
مکمل کلام دیکھیں
App Icon
ایپ انسٹال کریں
آسان اور تیز ترین مطالعے کے لیے