کیٹگریز مینو
س

سحر انصاری

0کتب
1شاعری
0مضامین
تمام تخلیقات 1 کتب 0 شاعری 1 مضامین 0

سحر انصاری کی شاعری

1 تخلیقات
اردو غزل

نہ دوستی سے رہے اور نہ دشمنی سے رہے

نہ دوستی سے رہے اور نہ دشمنی سے رہے ہمیں تمام گلے اپنی آگہی سے رہے وہ پاس آئے تو موضوع گفتگو نہ ملے وہ لوٹ جائے تو ہر گفتگو اسی سے رہے ہم اپنی راہ چلے لوگ اپنی راہ چلے یہی سبب ہے کہ ہم سرگراں سبھی سے رہے وہ گردشیں ہیں کہ چھٹ جائیں خود ہی بات سے ہات یہ زندگی ہو تو کیا ربط جاں کسی سے رہے کبھی ملا وہ سر رہ گزر تو ملتے ہی نظر چرانے لگا ہم بھی اجنبی سے رہے گداز قلب کہے کوئی یا کہ ہرجائی خلوص و درد کے رشتے یہاں سبھی سے رہے
مکمل کلام دیکھیں
App Icon
ایپ انسٹال کریں
آسان اور تیز ترین مطالعے کے لیے