کیٹگریز مینو

شاعری و دیوان

نظم 03 Sep 2026

متاعِ بے بہا ہے درد و سوزِ آرزو مندی

متاعِ بے بہا ہے ، درد و سوزِ آرزو مندی مقامِ بندگی دے کر نہ لُوں شانِ خداوندی تیرے آزاد بندوں کی ، نہ یہ دُنیا، نہ وہ دُنیا یہاں مَرنےکی پابندی وہاں جینے کی پابندی حجاب اکسیر ہے ، آوارہِ کوئے محبت کو میری آتش کو بھڑکاتی ہے تیری دیر پیوندی گزر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ و بیاباں میں کہ شاہیں کے لئے ذِلّت ہے، کارِ آشیاں بندی یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی؟ سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی؟ زیارت گاہِ عزم و ہمت ہے ، لحد میری کہ خاکِ راہ کو میں نے بتایا ، رازِ الوندی میری مشاطگی کی کیاضرورت حُسنِ معنی کو کہ فطرت خُودبخود کرتی ھے لالےکی حِنا بندی
App Icon
ایپ انسٹال کریں
آسان اور تیز ترین مطالعے کے لیے