Categories Menu

شاعری و دیوان

تمام شاعری
اردو غزل 03 Sep 2026

دل میں چبھے نہ جنکو کبھی خار زیست کے

دل میں چُبھےنہ جِنکو کبھی خار زیست کے کیا اُن پہ آشکار هوں ، اسرار زیست کے ؟ کیوں ہم پہ ہی تمام ہُوئیں غم کی نعمتیں؟ کیا اِک ہمی هوئے تھے گناہ گار زیست کے ؟ دیکھی هے هم نے رونقِ نیرنگیِ حیات منظر بدل چکے ہیں کئی بار زِیست کے چکھی هے هم نے موت کی لذت ہزار بار گزرے ہیں ہم پہ حادثے دو چار زیست کے کارِ حیات ، ریشمی دھاگوں کا کھیل تھا اُلجھےتو پھر سُلجھ نہ سکے تار زیست کے ایک ایک سانس کے لئے ، کاسہ لیے پھریں ایسے بھی ہم نہیں ہیں طلبگار زیست کے اب آس هے ، نہ کوئی تمنّا ، نہ جستجو باقی نہیں ہیں زِیست میں آثار زِیست کے کیا زندگی کا رنگ هو ، جانے ہمارے بعد؟ هم آخری اَمیں ہیں ، طرحدار زیست کے
App Icon
Install App
For a faster and easier reading experience