Categories Menu

شاعری و دیوان

تمام شاعری
اردو غزل 03 Sep 2026

نہ دوستی سے رہے اور نہ دشمنی سے رہے

نہ دوستی سے رہے اور نہ دشمنی سے رہے ہمیں تمام گلے اپنی آگہی سے رہے وہ پاس آئے تو موضوع گفتگو نہ ملے وہ لوٹ جائے تو ہر گفتگو اسی سے رہے ہم اپنی راہ چلے لوگ اپنی راہ چلے یہی سبب ہے کہ ہم سرگراں سبھی سے رہے وہ گردشیں ہیں کہ چھٹ جائیں خود ہی بات سے ہات یہ زندگی ہو تو کیا ربط جاں کسی سے رہے کبھی ملا وہ سر رہ گزر تو ملتے ہی نظر چرانے لگا ہم بھی اجنبی سے رہے گداز قلب کہے کوئی یا کہ ہرجائی خلوص و درد کے رشتے یہاں سبھی سے رہے
App Icon
Install App
For a faster and easier reading experience